نئی دہلی: 23 /اپریل(ایس اونیوز /آئی این ایس انڈیا) چیف جسٹس رنجن گوگوئی کے خلاف جنسی تشدد الزام کے کیس میں سپریم کورٹ نے منگل کو اس وکیل سے جواب مانگا جس نے یہ سنسنی خیز دعوی کیا تھا کہ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو جنسی تشدد کے جھوٹے کیس میں پھنسا کر ان کواستعفی دینے پر مجبور کرنے کے مقصد سے سازش رچی گئی تھی۔جسٹس ارون مشرا کی قیادت میں تین ججوں کی ایک خصوصی بنچ نے وکیل جشن سنگھ بینس کو نوٹس جاری کیا اور اس دعوے کے سلسلے میں ان سے جواب مانگا۔بینس نے دعوی کیا تھا کہ انہیں عدالت کی سابق خاتو ن ملازم کی نمائندگی کرنے کے لئے اور یہاں پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس منعقد کرنے والے شخص کا انتظام کرنے کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی تھی۔جسٹس آریف نریمن اور جسٹس دیپک گپتا بھی بنچ میں شامل تھے۔بنچ نے کیس کی مزید سماعت کے لئے بدھ کو صبح ساڑھے 10 بجے کا وقت طے کیا ہے۔معاملے کی’ عدلیہ کی آزادی سے منسلک اہم موضوع کے طور پر سماعت کی جا رہی ہے۔وکیل نے پیر کو حلف نامہ دائر کیا تھا۔اس سے پہلے سنیچر کو سماعت ہوئی تھی جس میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ ان الزامات کے پیچھے ایک بڑی سازش ہے۔